Abstract
یہ تحقیقی جائزہ سیٹو (Southeast Asia Treaty Organization: SEATO) کے تاریخی ارتقاء، سرد جنگ کے دوران اس کے قیام، عملی محدودیت، ادارہ جاتی کمزوری، تحلیل اور اس کے بعد ابھرنے والے جدید سکیورٹی اتحادوں کے تزویراتی کردار کا جامع تجزیہ پیش کرتا ہے۔ مضمون کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ بیسویں صدی کے سخت، نظریاتی اور فوجی اتحاد کس طرح اکیسویں صدی کے لچکدار، موضوعاتی، علاقائی اور کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات میں تبدیل ہوئے۔ سیٹو کو کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 1954ء میں قائم کیا گیا، مگر اس کی جغرافیائی غیر ہم آہنگی، داخلی اختلافات، مشترکہ فوجی کمان کی عدم موجودگی، مقامی ریاستوں کی محدود شمولیت اور ویت نام جنگ کے بعد بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل حقیقتوں نے اسے غیر مؤثر بنا دیا۔ اس کے برعکس جدید دور میں نیٹو، کواڈ، آکس، آسیان ریجنل فورم، شنگھائی تعاون تنظیم، یورپی سکیورٹی فریم ورک اور مختلف minilateral انتظامات ایک ایسے عالمی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں ریاستیں صرف رسمی معاہدوں پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سمندری سلامتی، سائبر دفاع، سپلائی چین، انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی صنعتی تعاون اور تزویراتی لچک پر بھی انحصار کرتی ہیں۔ اس جائزے کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ عالمی سکیورٹی اتحاد سرد جنگ کے دو قطبی نظام سے نکل کر پہلے امریکی بالادستی کے یک قطبی مرحلے، پھر علاقائی توازن، اور اب کثیرالقطبی مقابلے کے پیچیدہ دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً جدید اتحاد صرف فوجی بلاک نہیں رہے بلکہ سیاسی، معاشی، تکنیکی، سمندری، خلائی، سائبر اور سفارتی نیٹ ورک بن چکے ہیں۔