Abstract
مسلم دنیا میں آبادیاتی ساخت گزشتہ چند دہائیوں کے دوران تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک میں نوجوان آبادی کا تناسب غیر معمولی حد تک بڑھا ہے۔ اقوامی اور علاقائی سطح پر آبادیاتی مطالعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان آبادی کسی بھی معاشرے کے لیے بیک وقت ایک اہم موقع اور ایک پیچیدہ چیلنج ہو سکتی ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور سیاسی شمولیت کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی آبادی اقتصادی ترقی، اختراعی صلاحیت اور سماجی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ریاستی ڈھانچے روزگار پیدا کرنے، معیاری تعلیم فراہم کرنے اور سیاسی و معاشی شمولیت کے مواقع مہیا کرنے میں ناکام رہیں تو آبادیاتی دباؤ سماجی بے چینی، سیاسی کشیدگی اور ریاستی عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ مسلم دنیا کے تناظر میں نوجوان آبادی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان تعلق جدید سیاسیات، ترقیاتی مطالعات اور سکیورٹی تحقیق میں ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔