Abstract
ریاستی نظم و نسق، جمہوری استحکام اور سیاسی ارتقاء کے مطالعے میں سول–ملٹری تعلقات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ کسی بھی ریاست کے سیاسی ڈھانچے، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی توازن میں عسکری اور شہری اداروں کے درمیان تعلق فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ جدید سیاسی نظریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پائیدار جمہوریت اور مؤثر حکمرانی کے لیے عسکری اداروں کا آئینی حدود کے اندر رہنا اور منتخب سیاسی اداروں کی بالادستی کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ جب ریاستی طاقت کا توازن شہری اداروں سے ہٹ کر عسکری اداروں یا محدود اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہونا شروع ہو جاتا ہے تو حکمرانی کے ڈھانچے، اصلاحاتی عمل اور جمہوری ارتقاء پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ متعدد ترقی پذیر ریاستوں میں سول–ملٹری عدم توازن صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع ادارہ جاتی اور تزویراتی چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے حکومتی کارکردگی، احتسابی نظام، پالیسی تسلسل اور ریاستی استحکام کو متاثر کیا ہے۔