Abstract
نازک ریاستوں میں مذہب، شناخت، سیاست اور سماجی ڈھانچوں کے درمیان تعلق ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی موضوع ہے جس نے گزشتہ چند دہائیوں میں بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، سلامتیاتی مطالعات اور سماجی تحقیق میں غیر معمولی اہمیت حاصل کی ہے۔ مذہب تاریخی طور پر معاشروں میں اخلاقی رہنمائی، اجتماعی شناخت، سماجی یکجہتی اور ثقافتی تسلسل کا اہم ذریعہ رہا ہے، تاہم مختلف سیاسی اور سماجی حالات میں مذہبی شناخت کو بعض اوقات سیاسی مقاصد، طاقت کے حصول، سماجی متحرک سازی یا نظریاتی کشمکش کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جب ریاستی ادارے کمزور ہوں، حکمرانی کے ڈھانچے غیر مؤثر ہوں، اقتصادی مواقع محدود ہوں اور سماجی عدم مساوات بڑھنے لگے تو ایسے ماحول میں شناختی سیاست اور مذہبی بیانیے زیادہ اثر پذیر ہو سکتے ہیں۔ یہی صورتحال بعض نازک ریاستوں میں مذہب کی سیاسی ہتھیار بندی اور انتہا پسند رجحانات کے ابھار کے مطالعے کو اہم بناتی ہے۔