Abstract
اکیسویں صدی میں معلومات، مواصلات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ریاستی طاقت، سیاسی مقابلے اور سماجی اثرورسوخ کے تصورات کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ماضی میں جنگ اور طاقت کا تصور زیادہ تر فوجی قوت، جغرافیائی برتری اور اقتصادی وسائل سے منسلک تھا، مگر جدید عالمی نظام میں معلومات اور بیانیے خود ایک تزویراتی ہتھیار کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ریاستیں، غیر ریاستی عناصر، کارپوریشنز، میڈیا ادارے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب صرف معلومات کی ترسیل نہیں کرتے بلکہ وہ سماجی تصورات، سیاسی ترجیحات، قومی شناخت اور اجتماعی رائے عامہ کی تشکیل میں بھی فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں انفارمیشن وارفیئر، ڈیجیٹل کنٹرول اور عوامی رائے سازی کا موضوع بین الاقوامی تعلقات، میڈیا اسٹڈیز، سلامتیاتی تحقیق اور سیاسیات کے اہم ترین مباحث میں شامل ہو چکا ہے۔