Abstract
کینیڈا گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا کے ان ممالک میں شامل رہا ہے جہاں آبادی میں اضافے، امیگریشن پالیسیوں اور شہری توسیع نے معاشی ترقی اور افرادی قوت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، کم شرحِ پیدائش اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے باعث کینیڈا نے امیگریشن کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنایا۔ تاہم حالیہ برسوں میں تیز رفتار آبادیاتی تبدیلیوں، رہائشی طلب میں اضافے، محدود رہائشی فراہمی اور شہری انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے ایک نئے پالیسی بحران کو جنم دیا ہے۔ رہائشی استطاعت، شہری گنجائش اور امیگریشن کے درمیان تعلق اب اقتصادی اور سماجی بحث سے بڑھ کر قومی منصوبہ بندی اور شہری پائیداری کے اہم موضوعات میں شمار ہونے لگا ہے۔ متعدد مطالعات کے مطابق آبادی میں تیز اضافہ اور محدود رہائشی پیداوار کے درمیان عدم توازن نے بڑے شہری مراکز میں رہائشی قیمتوں اور کرایوں پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔