Abstract
عالمی نقل و حرکت، مہارت پر مبنی امیگریشن اور انسانی سرمائے کی بین الاقوامی منتقلی نے اکیسویں صدی کی معیشتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ جدید ریاستیں اب صرف قدرتی وسائل یا صنعتی پیداوار پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ علم، مہارت، اختراع اور انسانی سرمایہ کو معاشی ترقی کے بنیادی محرکات تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، سائنسدان، انجینئرز، طبی ماہرین، محققین اور پیشہ ور افراد کو عالمی مسابقتی ماحول میں ایک اہم قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ کینیڈا بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے مہارت پر مبنی امیگریشن نظام کے ذریعے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس پالیسی کا مقصد افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنا، آبادیاتی خلا کم کرنا اور اقتصادی نمو کو مضبوط بنانا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ایک پیچیدہ مسئلہ سامنے آیا جسے "برین ڈرین" اور "برین ویسٹ" کے تصورات کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ہجرت یا روزگار کا نہیں بلکہ انسانی سرمائے کے مؤثر استعمال، معاشی کارکردگی، سماجی انضمام اور پالیسی سازی سے متعلق ایک وسیع تر سوال بن چکا ہے۔