Abstract
1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھی جس نے نہ صرف برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی کو چیلنج کیا بلکہ مقامی سیاسی، قبائلی، مذہبی، اور جاگیردارانہ طاقتوں کے کردار کو بھی نمایاں کیا۔ زیرِ مطالعہ تصویر اور اس سے منسلک “1857ء کے قومی غدار” کا بیانیہ ایک مخصوص تاریخی و سیاسی نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے مطابق بعض مقامی خوانین، نوابوں، جاگیرداروں، اور قبائلی عمائدین نے برطانوی راج کا ساتھ دے کر تحریکِ آزادی کو کمزور کیا۔ یہ تحقیقی جائزہ اس تصویر، اس کے تاریخی پس منظر، اس میں شامل دعوؤں، اور جدید علمی تحقیقات کی روشنی میں اس بیانیے کا تنقیدی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1857ء کی ناکامی صرف بیرونی عسکری طاقت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ داخلی سیاسی تقسیم، علاقائی مفادات، جاگیردارانہ نظام، اور مقامی اشرافیہ کے پیچیدہ اتحاد بھی اس کے اہم عوامل تھے۔ مزید برآں، “غدار” اور “محبِ وطن” جیسے تصورات مختلف ادوار میں سیاسی و نظریاتی مقاصد کے تحت تشکیل پاتے رہے ہیں۔