Abstract
فرانسیسی نوآبادیاتی استعمار جدید عالمی تاریخ کے سب سے متنازع اور خونریز ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ الجزائر، تیونس، مراکش، موریطانیہ، اور افریقی مسلم دنیا میں فرانسیسی قبضے نے نہ صرف سیاسی اقتدار کو متاثر کیا بلکہ مذہبی، سماجی، معاشی، اور ثقافتی ڈھانچوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ زیرِ مطالعہ بیانیے میں الجزائر میں فرانسیسی فوجی کارروائیوں، اجتماعی قتلِ عام، ایٹمی تجربات، مذہبی بے حرمتی، اور افریقی وسائل کے استحصال جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ تحقیقی جائزہ جدید علمی تحقیقات، نوآبادیاتی مطالعہ، اور انسانی حقوق کے تناظر میں فرانسیسی سامراجی پالیسیوں کا تنقیدی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ فرانسیسی نوآبادیاتی نظام صرف فوجی قبضہ نہیں تھا بلکہ ایک ہمہ جہتی سیاسی، ثقافتی، اور معاشی غلبے کا منصوبہ تھا جس کے اثرات آج بھی شمالی افریقہ اور فرانکوفون افریقی ممالک میں محسوس کیے جاتے ہیں۔