Abstract
یہ تحقیقی و تجزیاتی مقالہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست، فلسطین کے مسئلے، اسرائیلی توسیع پسندانہ حکمتِ عملی، امریکی خارجہ پالیسی، سعودی عرب کی سفارتی ترجیحات، اور پاکستان جیسے مسلم ممالک کے کردار کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں غزہ جنگ، ابراہام معاہدوں، عرب اسرائیل تعلقات، اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے فلسطین کے مسئلے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں “امن”، “استحکام”، اور “سفارتی تعاون” کے بیانیے دراصل طاقت، سرمایہ، عسکری مفادات، اور جغرافیائی کنٹرول سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مقالے میں اس امر کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد، عرب دنیا کی داخلی تقسیم، اور مسلم ممالک کا معاشی و سیاسی انحصار فلسطین کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ فلسطین صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت، انسانی حقوق، مذہبی سیاست، بین الاقوامی قانون، توانائی کی معیشت، اور اسٹریٹجک جغرافیہ کا ایک کثیرالجہتی بحران ہے