Abstract
مذہبی سیاسی قیادت، فرقہ وارانہ شناخت، اور جدید ریاستی حکمرانی کے درمیان تعلقات آج کے عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تحقیقی موضوع بن چکے ہیں۔ ایران میں 1979ء کے اسلامی انقلاب اور افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد مذہبی طبقات کے اقتدار کے مختلف ماڈلز سامنے آئے۔ اس تحقیقی جائزے میں مذہبی قیادت، فرقہ وارانہ سیاست، پراکسی پالیسیوں، جدید جنگی حکمتِ عملی، اور جنوبی ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی بیانیوں کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی اور نظریاتی حکومتیں اکثر داخلی نظریاتی کنٹرول، سیکورٹی ترجیحات، اور جغرافیائی سیاسی اہداف کو سماجی اصلاحات، معاشی ترقی، اور جامع حکمرانی پر فوقیت دیتی رہی ہیں۔ مزید برآں، جدید جنگی ٹیکنالوجی، ڈرون وارفیئر، انٹیلیجنس سسٹمز، اور ریموٹ کمانڈ اسٹرکچرز نے روایتی جنگی تصورات کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔