Abstract
امام بخاریؒ اسلامی علمی تاریخ کی ان عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے حدیث، اصولِ روایت، علمی تنقید اور دینی تحقیق کے میدان میں ایسا اثر چھوڑا جس کے اثرات صدیوں بعد بھی علمی دنیا میں نمایاں طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ اسلامی تہذیب کی علمی روایت میں بعض شخصیات صرف اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ فکری اور علمی ارتقاء کے مستقل ستون بن جاتی ہیں۔ امام بخاریؒ بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے صرف احادیث جمع نہیں کیں بلکہ تحقیق، جانچ، تنقیدی معیار اور علمی احتیاط کے ایسے اصول مرتب کیے جنہوں نے بعد کی اسلامی علمی روایت کو گہرائی سے متاثر کیا۔ ان کی علمی زندگی صرف روایت کے جمع کرنے کا عمل نہیں تھی بلکہ ایک منظم تحقیقی منصوبہ تھی جس میں روایت، تحقیق، اسناد، علمی احتیاط اور فکری دیانت بنیادی عناصر کے طور پر موجود تھے۔