طاعون، توہمات اور یورپ کی تبدیلی بلیک ڈیتھ، مذہبی شدت، یہودی قتلِ عام، اور جدید دنیا کے آغاز کا تاریخی و سائنسی جائزہ
Authors: Taha Nazir, Israr Ahmad
Keywords:Medieval Superstition, Jewish Persecution, European History, Scientific Revolution
Abstract

یہ تحقیقی و تجزیاتی مقالہ چودھویں صدی میں یورپ میں پھیلنے والی بلیک ڈیتھ (Black Death) یا طاعون کی وبا، اس کے سماجی، مذہبی، سائنسی، اور سیاسی اثرات، اور اس سے جڑی غلط فہمیوں و انسانی المیوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ 1347 سے 1351 کے درمیان پھیلنے والی اس وبا نے یورپ، ایشیا، اور افریقہ کے وسیع علاقوں کو متاثر کیا اور اندازاً سات کروڑ سے بیس کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ اس مقالے میں یورپی معاشرے میں پائے جانے والے توہمات، مذہبی شدت پسندی، صفائی کے ناقص نظام، بلیوں کے قتل، چوہوں اور پسوؤں کے پھیلاؤ، اور یہودی اقلیت کے خلاف ہونے والے قتلِ عام کا تاریخی و سائنسی تجزیہ کیا گیا ہے۔ مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کس طرح خوف، جہالت، مذہبی طاقت، اور سائنسی لاعلمی نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک کو مزید تباہ کن بنا دیا۔ ساتھ ہی یہ تحقیق اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ بلیک ڈیتھ نے یورپ کے سماجی ڈھانچے، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، مزدور نظام، اور فکری ارتقاء کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا، جس نے بعد ازاں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance)، سائنسی انقلاب، اور جدید یورپ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

Article Type:Review article
Received: 2026-04-30
Accepted: 2026-05-10
First Published:2026-05-14
First Page & Last Page: 258 - 261
DOI: -
Collection Year:2016