انسانیت کے بحران، روحانی زوال اور عادلانہ نظامِ حیات کا فکری و انقلابی تجزیہ۔
Authors: Taha Nazir, Israr Ahmad
Keywords:Philosophy, Islamic Governance, Ethical Society, Spiritual Development
Abstract

یہ مقالہ انسانی تہذیب کے فکری، روحانی، اخلاقی، سیاسی، اور معاشرتی بحران کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے اور اس سوال کا تجزیہ کرتا ہے کہ انسانیت کن نظریاتی راستوں پر چل کر اپنے وجودی بحران کا شکار ہوئی۔ مطالعہ اس نظریے کو واضح کرتا ہے کہ انسانی تاریخ میں دو انتہاؤں نے انسان کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیلا: ایک طرف مادہ پرستی، سرمایہ دارانہ ہوس، طاقت کی سیاست، اور روحانی انکار؛ جبکہ دوسری طرف رہبانیت، دنیا سے فرار، غیر عملی روحانیت، اور اجتماعی ذمہ داریوں سے دستبرداری۔ ان دونوں انتہاؤں کے مقابلے میں اسلام انسان کے لیے “خلافتِ انسانی” کا متوازن، انقلابی، اور جامع تصور پیش کرتا ہے جس میں انسان کو زمین پر اللہ کا نائب، اخلاقی نمائندہ، اور عدل و انصاف کے قیام کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس مقالے میں ایمان، اطاعت، تقویٰ، اور احسان کو روحانی ارتقاء کی بنیادوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے جبکہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، اور حج کو انسان کی انفرادی و اجتماعی تربیت کے منظم نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ انسانیت کی حقیقی نجات نہ مادہ پرستی میں ہے اور نہ رہبانیت میں، بلکہ ایک ایسے متوازن نظام میں ہے جہاں روح، عقل، اخلاق، طاقت، اور اجتماعی عدل ایک جامع انسانی تہذیب کی تشکیل کریں۔

Article Type:Review article
Received: 2026-04-29
Accepted: 2026-05-05
First Published:2026-05-10
First Page & Last Page: 262 - 270
DOI: -
Collection Year:2026