Abstract
سائبر جنگ اور معلوماتی کارروائیاں جدید دور کی جنگ کا ایک مرکزی عنصر بن چکی ہیں، جہاں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے صرف ہتھیار نہیں بلکہ ڈیجیٹل اور نفسیاتی ذرائع بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف انفراسٹرکچر کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عوامی رائے، معاشرتی استحکام اور حکومتی ساکھ کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔ اس لیے ان کا اثر روایتی جنگ سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہوتا ہے۔