Abstract
مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی وارفیئر ایک ایسی حکمت عملی بن چکی ہے جس کے ذریعے علاقائی طاقتیں براہِ راست جنگ کے بغیر اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ غیر ریاستی عناصر اس عمل کا مرکزی حصہ ہیں جو نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ جنگی ماڈل خطے میں مسلسل عدم استحکام، انسانی بحران اور سیاسی کمزوریوں کو جنم دیتا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔