Abstract
2026 کے بعد عالمی نظام ایک واضح تبدیلی سے گزر رہا ہے جس میں طاقت ایک مرکز سے نکل کر متعدد ریاستوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ کثیر القطبی نظام میں معاشی، فوجی اور تکنیکی طاقت سب مل کر عالمی اثر و رسوخ کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ نظام توازن اور نمائندگی کو بڑھاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسابقت اور کشیدگی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
2026 کے بعد عالمی سیاست میں ایک گہری اور نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے جسے کثیر القطبی عالمی نظام (Multipolar World Order) کے ابھار کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اس تبدیلی نے عالمی طاقت کے توازن کو یکسر بدل دیا ہے۔ ماضی میں دنیا کو ایک حد تک یک قطبی نظام کے تحت دیکھا جاتا تھا جہاں ایک بڑی طاقت عالمی فیصلوں، سکیورٹی پالیسیوں اور معاشی ڈھانچوں پر غالب اثر رکھتی تھی، لیکن حالیہ تنازعات، بالخصوص 2026 کے بحران، نے یہ واضح کر دیا کہ اب عالمی طاقت ایک مرکز میں محدود نہیں رہی بلکہ مختلف خطوں اور ریاستوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ اس نئی صورتحال نے عالمی نظام کو زیادہ پیچیدہ، غیر یقینی اور مسابقتی بنا دیا ہے۔