Abstract
نسانی تاریخ میں چند افراد ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف نئی ایجادات کرتے ہیں بلکہ انسانی تہذیب کے روزمرہ طرزِ زندگی کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیتے ہیں۔ تھامس الوا ایڈیسن انہی غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجلی کے بلب، فونोगراف، موشن پکچر ٹیکنالوجی اور سینکڑوں دیگر ایجادات سے منسلک کیا جاتا ہے، لیکن ان کی اصل کہانی صرف ایجادات کی فہرست نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، محدود وسائل، خود تعلیم، ناکامیوں، محنت اور غیر معمولی استقامت کی داستان ہے۔
ایڈیسن کی زندگی اس عام تصور کی نفی کرتی ہے کہ عظیم کامیابیاں صرف اعلیٰ تعلیم، بڑے وسائل یا غیر معمولی مراعات کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ ان کے پاس نہ بہترین رسمی تعلیم تھی، نہ دولت مند خاندانی پس منظر، اور نہ ہی ابتدائی زندگی میں سائنسی تحقیق کے لیے مناسب وسائل موجود تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے تجسس، خود مطالعے، عملی تجربات اور مسلسل کوشش کے ذریعے خود کو دنیا کے سب سے زیادہ معروف موجدوں میں شامل کر لیا۔