Abstract
بیسویں صدی کی سیاسی اور اخلاقی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے طاقت، اقتدار اور سیاست کے مروجہ تصورات کو بنیادی طور پر چیلنج کیا۔ موہن داس کرم چند گاندھی، جنہیں دنیا مہاتما گاندھی کے نام سے جانتی ہے، انہی غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک سماجی مصلح، اخلاقی مفکر، عوامی خدمت گزار اور عدم تشدد کے عالمی علمبردار بھی تھے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ تاریخ پر اثر انداز ہونے کے لیے ہمیشہ فوجی طاقت، حکومتی اختیار یا مادی وسائل ضروری نہیں ہوتے؛ بعض اوقات سادگی، قربانی، اخلاقی استقامت اور عوامی اعتماد بھی تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔