Abstract
سقراط 469/470–399 قبل مسیح انسانی تاریخ کے ان چند مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ کوئی کتاب لکھی، نہ کوئی سیاسی سلطنت قائم کی، اور نہ ہی مادی دولت جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود ان کے خیالات نے دنیا کی فکری تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انہیں مغربی فلسفے کا بانی، اخلاقی فکر کا معمار، اور تنقیدی سوچ کا سب سے بڑا معلم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت سچائی کی بے لوث تلاش، فکری دیانت داری، سادہ زندگی، اور اصولوں پر غیر متزلزل استقامت تھی۔
سقراط کی زندگی ایسے دور میں گزری جب ایتھنز سیاسی، سماجی اور عسکری تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے محدود وسائل، عوامی تنقید، سیاسی مخالفت اور قانونی مقدمات کا سامنا کیا، لیکن کبھی اپنے نظریات یا اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ حقیقی عظمت کا تعلق دولت، طاقت یا شہرت سے نہیں بلکہ کردار، علم اور اصول پسندی سے ہوتا ہے۔