Abstract
دنیا کی سیاسی بساط پر ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو سطحی طور پر "امن" کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، مگر اس کی گہرائی میں طاقت، مفادات اور استعماری عزائم کی تاریک پرتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی صرف امریکی داخلی سیاست کا معاملہ نہیں، بلکہ عالمی توازن قوت کو دوبارہ امریکہ کے حق میں جھکانے کی کوشش ہے۔ ان کا پیش کردہ 20 نکاتی "امن منصوبہ" – جسے ہم "قبضہ منصوبہ" کہہ سکتے ہیں – بنیامین نیتن یاہو، شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی عرب جیسے کلیدی کھلاڑیوں کے گٹھ جوڑ سے تقویت پا رہا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کی 80 ہزار سے زائد شہادتوں کو ایک کاغذی دستاویز میں دفن کر کے، ان کی قربانیوں کو "ضروری نقصان" قرار دے رہا ہے۔ تحلیلی اعتبار سے، یہ نہ صرف ایک سفارتی چال ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی تشکیل نو کی حکمت عملی ہے، جو اسرائیل کو خطے کا بلا شرکت غیرے حکمران بنانے پر مبنی ہے۔