Abstract
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ 1903ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے، جب برصغیر ہند برطانوی استعمار کے زیرِ تسلط اور خلافتِ عثمانیہ زوال پذیر تھی۔ مسلمانوں کا سیاسی وجود کمزور، علمی قیادت منتشر اور فکری سمت غیر واضح تھی۔ ایسے میں مودودیؒ ایک ایسی فکری شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے اسلام کو محض مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل تمدنی و سیاسی نظام کے طور پر پیش کیا۔ ان کے افکار نے علی گڑھ تحریک کے جدید رجحانات، دیوبندی مدرسہ فکر کی روایت پسندی، اور اقبالؒ کی فکری شاعری کو ایک عملی نظریاتی قالب میں جوڑ کر اسلامی احیاء کی نئی فکری بنیاد رکھی۔ 1932ء میں لاہور سے ان کا مجلہ ترجمان القرآن منظرِ عام پر آیا، جو برصغیر کے فکری افق پر اسلامی بیداری کا نیا آغاز تھا۔