درد کی پکار: خواجہ سرا پاکستانی کی اپنی خاموش ماں کے نام خط
Authors: Taha Nazir
Keywords:Gender Identity, Violence, Human Rights, Legal Protection, Transgender Activism
Abstract

قبائلی علاقوں (FATA) سے لاہور یا کراچی جیسے شہروں تک، خاندانوں میں خواجہ سرا بچوں کی زندگی کا آغاز ہی امتیازی سلوک سے ہوتا ہے۔ میری عمر محض نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے دخل کر دیاایک ایسا واقعہ جو پاکستان کی خواجہ سرا کمیونٹی کے لاکھوں افراد کے ساتھ روزمرہ کی حقیقت ہے، جہاں خاندانی انکار اور سماجی استثناء ان کی پہچان کا حصہ بن جاتا ہے۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا، لیکن تم سہمی ہوئی، بے حس و حرکت، مجھے تکتی رہیں۔ تمہارے آنسوؤں کی روانی ہی واحد گواہ تھی کہ تم ابا کے اس ظالمانہ فعل سے نالاں تھیں، مگر ان کے غیض و غضب اور معاشرتی دباؤ کے سامنے تمہاری زبان خاموش اور دل مجبور تھا۔ پاکستان میں، جہاں 90 فیصد خواجہ سرا افراد جسمانی حملوں کا شکار ہوتے ہیں، خاندانی تشدد اور سماجی طعنے عام ہیں، جو برطانوی نوآبادیاتی دور کے Criminal Tribes Act 1871 کی جڑوں سے جڑے ہیں، جس نے خواجہ سرا کو مجرمانہ قبیلہ قرار دے دیا تھا اور آج بھی اس کی باقیات امتیازی رویوں میں زندہ ہیں۔

Article Type:Mini-review
Received: 2025-12-23
Accepted: 2025-12-28
First Published:2025-12-31
First Page & Last Page: 1 - 5
DOI: -
Collection Year:2025