Abstract
فارمیسی کی تعلیم اور صنعت زندگی بچانے والی ادویات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ عمل انتہائی منظم اور سائنسی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں فعال اجزاء کی تیاری سے لے کر انہیں گولیوں، شربتوں، انجیکشنز، ایمپولز، کریموں، مرہموں، سپوزیٹریز، پیسریز اور معطلیوں جیسی خوراکی اشکال میں ڈھالنا شامل ہے۔ ملنگ، خشک کرنے، مکسنگ، گرینولیشن، ہیٹنگ، کوٹنگ اور پریسنگ جیسے مراحل اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ادویات طبی استعمال کے لیے مطلوبہ معیار پر پورا اتریں۔ تاہم، جب بدعنوانی تعلیمی و صنعتی اداروں میں داخل ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف عوامی وسائل کو ضائع کرتی ہے بلکہ صحت کے نظام اور تعلیمی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔